امریکہ نے ہفتے کے روز درجنوں ملک بدر کیے گئے افراد کو وسطی افریقی جمہوریہ پہنچایا، جن میں ایک نوجوان افغان شخص بھی شامل تھا جس کے بھائی امریکی افواج کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے یہ رپورٹ اس کے وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ کے حوالے سے دی۔
وہ مسافر اس وجہ سے اس ملک بدری کو محض معمول کی رسدی کارروائی کی خبر نہیں رہنے دیتا۔ ایک امریکی جج پہلے ہی اسے افغانستان واپس بھیجنے سے روک چکے تھے، کیونکہ طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کا خدشہ تھا اور اس کے بعد کہ اس کے خاندان کو فوجی تعاون سے متعلق دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ ایک بھائی نے افغان نیشنل آرمی میں خدمات انجام دیں اور اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ دوسرے، جو امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ تھے، طالبان کے ہاتھوں مارے گئے۔ عدالت نے کابل کو سفر کے منصوبے سے نکال دیا تھا۔ ہفتے کے روز کے طیارے نے اسے دوبارہ شامل نہیں کیا۔ اس نے طیارے کا رخ بانگی کی طرف کر دیا۔
بانگی جانے والی پرواز میں 12 افغان، آٹھ ایرانی اور نیپال اور نکاراگوا کے افراد سوار تھے، وکلا اور کارکنوں نے بتایا۔ یہ جون کے بعد CAR کی ایسی دوسری ملک بدری ہے، جو تقریباً دو درجن ممالک پر پھیلے ہوئے خفیہ تیسرے ملک کے معاہدوں کے تحت کی گئی۔ امیگریشن وکلا اس عمل کو ایسا متبادل راستہ قرار دیتے ہیں جو تحفظ یافتہ پناہ کے متلاشیوں کو ایسے ممالک میں بے یار و مددگار چھوڑ سکتا ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں، اور اس طرح قانونی طریقۂ کار اور عدمِ بازگشت پر بحث کو مزید تیز کرتا ہے۔
یہ وہ حقائق ہیں جو عوامی ریکارڈ میں موجود ہیں: ایسوسی ایٹڈ پریس نے انہیں نوجوان کے وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ سے حاصل کیا، جبکہ وکلا اور کارکنوں نے منشور اور وسیع تر رجحان کی تفصیلات بیان کیں۔ آگے ان حقائق کا مفہوم بیان کیا گیا ہے، ناموں، اعداد یا اقتباسات کا کوئی نیا مجموعہ نہیں۔
ایسی ملک بدری جو واپسی نہیں تھی
عام امریکی استعمال میں ملک بدری اب بھی ایسی گھر واپسی کا تاثر دیتی ہے جسے کوئی نہیں چاہتا۔ اس لفظ سے ایک ایسا ملک مراد لیا جاتا ہے جس کا پاسپورٹ موجود ہو، ایسی زبان جس سے پہلے ہی واقفیت ہو، اور ایسا ہوائی اڈہ جس کے اشارے کاغذات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ ہفتے کے روز کی کارروائی نے ایسا نہیں کیا۔ امریکہ نے درجنوں ملک بدر کیے گئے افراد کو وسطی افریقی جمہوریہ پہنچایا، جو افریقی براعظم کے وسط میں واقع خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے۔ افغانستان وہاں نہیں ہے۔ ایران وہاں نہیں ہے۔ نیپال وہاں نہیں ہے۔ نکاراگوا وہاں نہیں ہے۔
یہ عدم مطابقت پالیسی ہے، راستے کا اتفاقی نتیجہ نہیں۔ وکلا اور کارکنوں نے بتایا کہ بانگی جانے والی پرواز میں 12 افغان، آٹھ ایرانی اور نیپال اور نکاراگوا کے افراد سوار تھے۔ چار اصل ممالک، ایک منزل۔ منزل کا انتخاب قومیت سے مطابقت کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔ اسے اس لیے چنا گیا کہ ایک تیسرے ملک نے طیارہ قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان درجنوں افراد میں ایک نوجوان افغان شخص بھی تھا جس کے بھائی امریکی افواج کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اس کے وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ نے اس خاندانی تاریخ سے ایسوسی ایٹڈ پریس کو آگاہ کیا۔ ایک امریکی جج پہلے ہی اسے کاغذی کارروائی کا مسئلہ نہیں بلکہ ظلم و ستم کا مسئلہ قرار دے چکے تھے۔ جج نے طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے کے باعث اسے افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا تھا۔ اگر امریکہ اسے طالبان کی طرف جانے والی پرواز پر نہیں بٹھا سکتا تھا تو، اس پروگرام کے ڈھانچے کے مطابق، باقی راستے یہ تھے کہ اسے امریکہ میں رکھا جائے یا کوئی ایسی حکومت تلاش کی جائے جو اسے قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ بانگی ان دو میں سے دوسرا راستہ تھا۔
امیگریشن وکلا اس دوسرے راستے کے لیے ایک نام استعمال کرتے ہیں۔ وہ اسے متبادل راستہ کہتے ہیں۔ یہ لفظ قانونی کام انجام دے رہا ہے۔ ایسے افراد جنہیں عدمِ بازگشت کے اصول اور عدالتی حکم کے باعث اپنے وطن واپس نہیں بھیجا جا سکتا، اگر کوئی دوسری ریاست رضامند ہو تو انہیں ایسی جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں سے وہ فرار نہیں ہوئے اور جسے انہوں نے منتخب نہیں کیا۔ ہفتے کے روز وسطی افریقی جمہوریہ وہ جگہ تھا، اور جون کے بعد دوسری مرتبہ وہی جگہ بن گیا ہے۔
وہ خاندان جس سے جج پہلے ہی واقف تھے
یہ نوجوان افغان شخص کوئی فرضی کردار یا نعرہ نہیں ہے۔ وہ ایک مخصوص مسافر ہے جس کے بھائی امریکی افواج کے ساتھ کام کرتے تھے۔ یہی تعاون اس معاملے کا مرکزی نکتہ ہے۔ اس کے خاندان کو فوجی تعاون سے متعلق دھمکیاں ملنے کے بعد ایک امریکی جج نے طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے کے باعث اسے افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا۔
اس کے بھائی محض ضمنی کردار نہیں ہیں۔ ایک نے افغان نیشنل آرمی میں خدمات انجام دیں اور اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ طویل امریکی جنگ کے دوران اس فوج میں خدمات انجام دینا ایسی سابقہ حیثیت ہے جسے طالبان کئی برس سے تعاون کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے بھائی کا امریکہ میں رہنا بھی ایسا факт ہے جو ہفتے کے روز کی ملک بدری کو ایک خاص انداز میں تکلیف دہ بناتا ہے: ایک بہن بھائی اس ملک میں ہے جس نے افغان یونٹوں کو تربیت دی اور ان کے ساتھ مل کر جنگ لڑی؛ دوسرا بہن بھائی بانگی کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔
دوسرا بھائی امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ تھا۔ وہ طالبان کے ہاتھوں مارا گیا۔ طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں امریکہ سے تربیت حاصل کرنا کوئی نجی مشغلہ نہیں۔ یہ ایک شناختی نشان ہے۔ یہ موت محض پس منظر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے ایک امریکی جج کے سامنے پہنچے تو وہ فرضی نہیں تھے، اور یہ بھی وجہ ہے کہ خاندان کو فوجی تعاون سے متعلق دھمکیاں ملیں، نہ کہ محض عمومی سیاسی بے چینی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ کے حوالے سے جو عوامی حقائق رپورٹ کیے ہیں، ان کے مطابق عدالت نے وسطی افریقی جمہوریہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس نے اسے افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا تھا۔ یہ حکم پناہ دینے کے فیصلے سے محدود تر، مگر خاموشی سے وسیع تر تھا۔ اس کا مطلب تھا: وہاں نہیں۔ تاہم یہ حکم بذاتِ خود یہ نہیں کہتا: کہیں بھی نہیں۔
ان دونوں جملوں کے درمیان موجود خلا ہی وہ جگہ ہے جہاں تیسرے ملک کو ملک بدری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر قانونی تحفظ صرف اس جگہ واپسی کے خلاف ہو جہاں نقصان کا خدشہ ہے، تو جو حکومت شخص سے جان چھڑانا چاہتی ہے وہ کسی تیسرے نقشے کی تلاش کرے گی۔ وسطی افریقی جمہوریہ وہ تیسرا نقشہ ہے۔ یہ طالبان کا ملک نہیں۔ لیکن اس بیان میں موجود کسی بھی حقیقت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ وہ جگہ ہے جسے نوجوان افغان شخص نے منتخب کیا، جہاں کی زبان بولی، یا جس سے اس کا کوئی تعلق تھا۔
بارہ افغان، آٹھ ایرانی اور ایک ملا جلا منشور
بانگی جانے والی پرواز میں کون سوار تھا، اس کا ذریعہ وکلا اور کارکن ہیں۔ انہوں نے 12 افغان گنے۔ انہوں نے آٹھ ایرانی گنے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیپال اور نکاراگوا کے افراد بھی موجود تھے۔ مجموعی گروہ کے حجم کے طور پر امریکہ کی جانب سے پہنچائے گئے درجنوں افراد کی رپورٹ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو تصویر ایک ہی افریقی دارالحکومت میں مختلف قومیتوں کے لوگوں کی ملک بدری کی بنتی ہے۔
بانگی وسطی افریقی جمہوریہ کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے۔ یہ افغانوں کے لیے روایتی آبادکاری کا مرکز نہیں۔ اس معاملے کے عوامی حقائق کے مطابق یہ وہ جگہ بھی نہیں جسے نوجوان کے خاندان نے منتخب کیا ہو۔ یہ انتخاب خفیہ تیسرے ملک کے معاہدوں کے ذریعے کیا گیا، جنہیں وکلا اور کارکن اور امیگریشن وکلا ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں جو تقریباً دو درجن ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔
اس بیان میں رازداری کوئی لفظی آرائش نہیں۔ اگر معاہدے خفیہ ہوں تو منتقل کیے جانے والے افراد، ان کے وکلا اور وہ عدالتیں جنہوں نے پہلے ہی ظلم و ستم سے متعلق فیصلے دیے ہیں، وصول کرنے والے ملک کی یقین دہانیوں کو بروقت دیکھ کر جانچ نہیں سکتے۔ نوجوان افغان کے وکیل نے ہیومن رائٹس فرسٹ کے ساتھ ایسوسی ایٹڈ پریس کو یہ بتانے میں کامیابی حاصل کی کہ مؤکل ملک بدر کیے گئے افراد میں شامل تھا اور ایک امریکی جج پہلے ہی افغانستان کو نقشے سے خارج کر چکے تھے۔ تاہم کسی بھی بیان میں یہ عدالتی نتیجہ موجود نہیں تھا کہ وسطی افریقی جمہوریہ محفوظ، موزوں یا حتیٰ کہ مسافر کے لیے کسی بامعنی طور پر معروف جگہ تھی۔
وکلا اور کارکنوں کے بیان کردہ مسافروں کے منشور سے یہ دعویٰ بھی کمزور پڑتا ہے کہ بانگی کا انتخاب ثقافتی یا لسانی مطابقت کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ بارہ افغان اور آٹھ ایرانی طیارے میں سوار ہو کر وسطی افریقی نہیں بن جاتے۔ نیپال اور نکاراگوا کے افراد بھی نہیں بنتے۔ مشترک خصوصیت اصل ملک نہیں ہے۔ مشترک بات یہ ہے کہ امریکہ انہیں باہر نکالنا چاہتا تھا اور ایک ایسا شراکت دار مل گیا جو بانگی جانے والے طیارے کو اپنے ہاں اترنے دیتا۔
تقریباً دو درجن ممالک تک پھیلے خفیہ معاہدے
ہفتے کے روز کے واقعے کو یک وقتی کارروائی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ یہ جون کے بعد CAR کی ایسی دوسری ملک بدری ہے۔ ایک لینڈنگ کو تجربہ کہا جا سکتا ہے۔ جون سے ہفتے کے روز تک کے عرصے میں اسی راستے پر دوسری پرواز ایک روٹ بن جاتی ہے۔ روٹس استعمال ہوتے ہیں۔
وسیع تر تناظر ایک افریقی دارالحکومت سے بڑا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ملک بدر کیے جانے کی کارروائیاں تقریباً دو درجن ممالک تک پھیلے ہوئے خفیہ تیسرے ملک کے معاہدوں کے تحت جاری ہیں۔ تقریباً دو درجن وسطی افریقی جمہوریہ کا مترادف نہیں۔ یہ نیٹ ورک کی مبینہ وسعت ہے۔ CAR اس کا ایک مرکز ہے۔ اس طیارے پر موجود درجنوں ملک بدر کیے گئے افراد ایک کھیپ ہیں۔ 12 افغان، آٹھ ایرانی اور نیپال و نکاراگوا کے افراد اس کھیپ کا انسانی حصہ ہیں۔
ہیومن رائٹس فرسٹ کوئی سرکاری ادارہ نہیں۔ یہ ایک وکالتی تنظیم ہے جو نوجوان کے وکیل کے ساتھ ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کر رہی تھی۔ وسیع تر معنوں میں وکلا اور کارکنوں نے منشور کی تفصیلات بیان کیں۔ امیگریشن وکلا نے قانونی ڈھانچے کی وضاحت کی۔ اس کہانی کا آزاد دستاویزی حصہ امریکی جج کا حکم، امریکی افواج کے ساتھ فوجی تعاون کی خاندانی تاریخ، اس کے بعد آنے والی دھمکیاں، افغان نیشنل آرمی کا وہ بھائی جو امریکہ میں رہتا ہے، اور امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ بھائی ہے جو طالبان کے ہاتھوں مارا گیا۔
اس میں سے کوئی بات یہ نہیں کہتی کہ وسطی افریقی جمہوریہ افغانستان ہے۔ یہ سب باتیں مل کر کہتی ہیں کہ افغانستان وہ جگہ تھی جہاں عدالت واپسی کی اجازت نہیں دے گی۔ پروگرام کا جواب ملک بدری روکنا نہیں تھا۔ جواب منزل بدلنا تھا۔
وکلا کے نزدیک متبادل راستے کا مطلب
امیگریشن وکلا اس عمل کو ایسا متبادل راستہ کہتے ہیں جو تحفظ یافتہ پناہ کے متلاشیوں کو ایسے ممالک میں بے یار و مددگار چھوڑ سکتا ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اس جملے کے دونوں حصے اہم ہیں۔
اس استعمال میں متبادل راستہ ایسے انتظام کا نام ہے جو ممانعت کے لفظی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے عملی تحفظ کو بے معنی کر دے۔ ممانعت عدمِ بازگشت ہے: کسی شخص کو ظلم و ستم کی طرف واپس نہ بھیجا جائے۔ ایک امریکی جج پہلے ہی اس منطق کا ایک نمونہ نافذ کر چکے تھے، جب انہوں نے طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے کے باعث افغانستان واپسی کو روک دیا۔ اگر صرف گھر واپسی غیر قانونی عمل ہے تو تیسرا ملک قانونی خلا بن جاتا ہے۔ بانگی اس خلا کو پرواز کے منصوبے میں بدل دیتی ہے۔
دوسرا حصہ انسانی نتیجہ ہے۔ تحفظ یافتہ پناہ کے متلاشی ایسے لوگ نہیں جن کا کوئی دعویٰ نہ ہو۔ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے خوف کو کم از کم اتنا تسلیم کیا جا چکا ہے کہ سب سے واضح ملک بدری روکی جائے۔ ایسے ممالک میں بے یار و مددگار چھوڑ دینا جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں وہ عمل ہے جو امیگریشن وکلا کے مطابق یہ نظام انجام دیتا ہے۔ عوامی ریکارڈ کے مطابق نوجوان افغان شخص کے تعلقات افغانستان سے، ایسے خاندان سے ہیں جس نے امریکی افواج کے ساتھ کام کیا، افغان نیشنل آرمی کے اس بھائی سے ہیں جو امریکہ میں رہتا ہے، اور اس بھائی سے ہیں جو امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ تھا۔ اسی ریکارڈ کے مطابق اس کا وسطی افریقی جمہوریہ سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی بانگی جانے والی پرواز میں موجود نیپال اور نکاراگوا کے افراد اس نکتے کو دوسری سمتوں سے واضح کرتے ہیں۔ نیپال وسطی افریقہ نہیں۔ نکاراگوا وسطی افریقہ نہیں۔ آٹھ ایرانی وسطی افریقی نہیں ہیں۔ متبادل راستے کے لیے مطابقت ضروری نہیں ہوتی۔ اسے تقریباً دو درجن ممالک میں سے کسی ایک رضامند تیسرے ملک اور معاہدوں کو خفیہ رکھنے کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔
قانونی طریقۂ کار اور عدمِ بازگشت
ایسوسی ایٹڈ پریس کی وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ کے حوالے سے رپورٹ، اور وکلا اور کارکنوں و امیگریشن وکلا کے تبصرے، ایک ایسی بحث تک پہنچتے ہیں جس کے بارے میں یہ وکلا کہتے ہیں کہ وہ شدت اختیار کر رہی ہے: ایک طرف قانونی طریقۂ کار، دوسری طرف عدمِ بازگشت، اور ان کے درمیان وہ جگہ جہاں تیسرے ملک کو ملک بدری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
قانونی طریقۂ کار کا مطالبہ یہ ہے کہ حکومتی منصوبہ رن وے بننے سے پہلے شخص کو اسے جانچنے کا موقع دیا جائے۔ اگر ایک امریکی جج سے افغانستان جانے والی پرواز روکنے کی درخواست کی جا سکتی ہے تو کھلا سوال یہ ہے کہ کیا اسی شخص کو بروقت بانگی کو بھی جانچنے کا موقع مل سکتا ہے۔ خفیہ معاہدے اس سوال کو مزید تیز کر دیتے ہیں۔ طالبان سے متعلق سماعت خود بخود وسطی افریقی جمہوریہ سے متعلق سماعت نہیں بن جاتی۔ ایک ملک پر پابندی خود بخود تقریباً دو درجن ممالک پر پابندی نہیں بنتی۔
عدمِ بازگشت وہ قدیم بین الاقوامی اصول ہے جس کے تحت ریاست کسی پناہ گزین کو ایسی سرزمین کی سرحدوں پر واپس نہیں بھیج سکتی جہاں اس کی زندگی یا آزادی کو خطرہ ہو۔ نوجوان افغان شخص کا معاملہ دکھاتا ہے کہ عملی طور پر یہ اصول کتنا محدود ہو سکتا ہے۔ اس کے خاندان کو فوجی تعاون سے متعلق دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ایک جج نے طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے کو اتنا حقیقی سمجھا کہ افغانستان بھیجنے سے روک دیا۔ امریکہ نے ہفتے کے روز اسے طالبان کے پاس نہیں بھیجا۔ اس نے اسے درجنوں دوسروں کے ساتھ بانگی کی طرف بھیج دیا۔ آیا یہ جغرافیائی لحاظ سے واپسی نہ ہونے کے باوجود روحانی طور پر بازگشت ہے یا نہیں، یہی وہ بحث ہے جسے امیگریشن وکلا اس عمل کو متبادل راستہ قرار دیتے ہوئے آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ بحث طیارے میں موجود افراد کے لیے تجریدی نہیں ہے۔ بارہ افغانوں میں کم از کم ایک ایسا شخص شامل ہے جس کے بھائیوں کا امریکی افواج کے ساتھ کام پہلے ہی دھمکیوں، عدالتی حکم، امریکہ میں موجود زندہ بہن بھائی، اور ایک مردہ امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ کا باعث بن چکا ہے۔ آٹھ ایرانی اور نیپال و نکاراگوا کے افراد اس افغان خاندانی تاریخ میں شریک نہیں، مگر منزل میں شریک ہیں۔ ان کے درمیان مشترک بات یہ ہے کہ امریکہ نے فیصلہ کیا کہ کوئی تیسرا ملک یہ کام کر دے گا۔
تحفظ کا مطلب کیا تھا اور کیا نہیں تھا
گھر واپسی سے تحفظ، جیسا کہ یہ معاملہ واضح کرتا ہے، ایک بنیادی حد ہے۔ یہ وہ اقدام ہے جو عدالت اس وقت حکم دے سکتی ہے جب طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے کافی مضبوط ہوں اور جب امریکی افواج کے ساتھ کام کرنے سے متعلق خاندان کو دھمکیاں ملی ہوں۔ یہ ہفتے کے روز کے واقعات میں امریکہ میں رہنے کا حق نہیں تھا۔ یہ اس بھائی کے پاس پہنچنے کے لیے خاندانی ملاپ کا ٹکٹ نہیں تھا جس نے افغان نیشنل آرمی میں خدمات انجام دیں اور اب امریکہ میں رہتے ہیں۔ یہ اس بھائی کی موت کا معاوضہ بھی نہیں تھا جو امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ تھا اور طالبان کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہ ایک ممانعت ہے جس میں ایک سوراخ موجود ہے۔ اس سوراخ کا نام بانگی ہے۔
وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذریعے نوجوان افغان شخص کو عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا، تاکہ اس سوراخ کا ایک چہرہ ہو: ایک نوجوان، ایسے بھائی جو امریکی افواج کے ساتھ کام کرتے تھے، جج کا حکم، اور تیسرے ملک کی پرواز۔ وکلا اور کارکنوں نے باقی طیارے کو بھی ریکارڈ پر لایا، تاکہ اس سوراخ کے پاس مسافروں کی تعداد ہو: 12 افغان، آٹھ ایرانی، نیپال اور نکاراگوا کے افراد، ان درجنوں لوگوں میں شامل جنہیں وسطی افریقی جمہوریہ پہنچایا گیا۔ اس کے بعد امیگریشن وکلا نے اس سوراخ کو ایک نظام میں رکھ دیا: ایسا متبادل راستہ جو تحفظ یافتہ پناہ کے متلاشیوں کو ایسے ممالک میں بے یار و مددگار چھوڑ سکتا ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں، تقریباً دو درجن ممالک تک پھیلے خفیہ تیسرے ملک کے معاہدوں کے تحت، اور جو قانونی طریقۂ کار اور عدمِ بازگشت پر بحث کو مزید تیز کرتا ہے۔
ان عناصر میں سے کسی کے لیے بھی نیا اقتباس درکار نہیں۔ ریکارڈ پر موجود افراد ایک نامعلوم وکیل، ہیومن رائٹس فرسٹ، اس اکاؤنٹ کی رپورٹ کرنے والا ایسوسی ایٹڈ پریس، نامعلوم وکلا اور کارکن، نامعلوم امیگریشن وکلا، ایک نامعلوم امریکی جج، نامعلوم نوجوان افغان شخص اور اس کے بھائی ہیں۔ ریکارڈ پر موجود اعداد درجنوں، 12، آٹھ، دوسری اور تقریباً دو درجن ہیں۔ ریکارڈ پر موجود مقامات امریکہ، افغانستان، وسطی افریقی جمہوریہ، بانگی، نیپال، نکاراگوا اور ایران کا مفہوم دینے والا جغرافیہ ہیں۔ ریکارڈ پر موجود مسلح گروہ اور ادارے طالبان، امریکی افواج اور افغان نیشنل آرمی ہیں۔
جون کے بعد CAR کی دوسری ملک بدری
سیاق و سباق دوسری پرواز ہے، پہلی افواہ نہیں۔ ہفتے کے روز کی کارروائی جون کے بعد CAR کی ایسی دوسری ملک بدری ہے۔ امریکہ اب یہ راستہ ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال کر چکا ہے۔ اس تازہ استعمال میں موجود درجنوں ملک بدر کیے گئے افراد، جن میں 12 افغان، آٹھ ایرانی اور نیپال و نکاراگوا کے دیگر افراد شامل ہیں، اسی راستے کی تازہ کھیپ ہیں۔
نوجوان افغان شخص کے لیے سلسلہ بے رحمانہ طور پر سادہ ہے۔ بھائی امریکی افواج کے ساتھ کام کرتے تھے۔ خاندان کو اس فوجی تعاون سے متعلق دھمکیاں ملیں۔ ایک امریکی جج نے طالبان کی جانب سے ظلم و ستم کے خدشے کے باعث اسے افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا۔ ایک بھائی، جو افغان نیشنل آرمی کے سابق اہلکار ہیں، امریکہ میں رہتے ہیں۔ دوسرا، امریکہ سے تربیت یافتہ پائلٹ، طالبان کے ہاتھوں مارا جا چکا ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے اسے درجنوں افراد کے ساتھ بانگی جانے والے طیارے پر خفیہ تیسرے ملک کے معاہدوں کے تحت روانہ کیا، جن کے بارے میں امیگریشن وکلا کہتے ہیں کہ وہ تحفظ یافتہ پناہ کے متلاشیوں کو ایسے ممالک میں بے یار و مددگار چھوڑ سکتے ہیں جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ وہ کہانی ہے جسے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس کے وکیل اور ہیومن رائٹس فرسٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ یہی وہ کہانی ہے جس میں وکلا اور کارکنوں نے منشور کی تفصیلات شامل کیں۔ یہی وہ کہانی ہے جسے امیگریشن وکلا نے قانونی طریقۂ کار اور عدمِ بازگشت کی بحث میں رکھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ وسطی افریقی جمہوریہ بھیجی جانے والی ملک بدری افغان پناہ کی فائل کا حاشیہ نہیں ہے۔ یہ اس فائل کا موجودہ آخری صفحہ ہے: نہ گھر، نہ امریکہ، اور نہ ایسا ملک جس سے ان حقائق کی بنیاد پر یہ دکھایا جا سکے کہ مسافر واقف تھا۔