وال اسٹریٹ جرنل نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ واشنگٹن وینزویلا کے کاروباری شخصیت الیخاندرو بیٹنکورٹ کی کمپنی نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز میں 35 فیصد غیر فعال حصص حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، ساتھ ہی پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر خریدنے کے ترجیحی حقوق بھی حاصل کرے گا۔ پینٹاگون کا آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل مبینہ طور پر اس معاہدے کو معمولی قیمت والے وارنٹس کے ذریعے ترتیب دے گا، جس سے بڑے نقد اخراجات کے بغیر حصص حاصل ہوں گے۔
یہ خبر صدر ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی کہ امریکہ نے ایک نجی شراکت داری کے ذریعے 65 ارب سے زیادہ بیرل کے وینزویلا کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو وینزویلا کے دعویٰ کردہ ثابت شدہ تیل کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ او ایس سی کا قانون قرضوں اور ضمانتوں کی اجازت دیتا ہے، حصص کی نہیں۔ وائٹ ہاؤس اور این اے بی ای پی نے کئی گھنٹوں بعد بھی تبصرہ نہیں کیا۔ مارکیٹیں اور ناقدین یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ ایک غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والے متنازع ثالث کے ذریعے اوپیک سے منسلک خام تیل پر اپنا اثر و رسوخ قومیانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کا تیل کی رسد کی جغرافیائی سیاست پر کیا مطلب ہے۔
یہ وہ حقائق ہیں جو عوامی ریکارڈ میں موجود ہیں، اور جو ہفتے کے روز کی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور اس کے بعد ہونے والی تردید سے جمع کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد ان حقائق کا مفہوم بیان کیا گیا ہے، ناموں، اعداد یا اقتباسات کا کوئی نیا مجموعہ نہیں۔
بیٹنکورٹ کی کمپنی میں 35 فیصد غیر فعال حصص
ہفتے کے روز کی خبر کا مرکزی نکتہ ٹینکر کے معاہدے کے بجائے کارپوریٹ نوعیت کا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے کہا کہ واشنگٹن الیخاندرو بیٹنکورٹ کی فرم نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز میں 35 فیصد غیر فعال حصص لینے کا ارادہ رکھتا ہے، جو ایک وینزویلا کے کاروباری شخص کی کمپنی ہے۔ اس حصے کو غیر فعال قرار دیا گیا ہے۔ دیے گئے حقائق کی بنیاد پر یہ لفظ اہم ہے: امریکہ کمپنی کا ایک بڑا اقلیتی حصہ اپنے پاس رکھے گا، لیکن اسے کنوؤں کا روزمرہ آپریٹر نہیں کہا گیا ہے۔
پینتیس فیصد کوئی علامتی حصہ نہیں ہے۔ تاہم یہ بذاتِ خود نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز میں اکثریت بھی نہیں ہے۔ یہ ملکیت کا ایسا دعویٰ ہے جو کسی بھی بورڈ روم میں اہمیت رکھتا ہے، مگر اس ادارے پر مکمل کنٹرول سے کم ہے۔ جرنل کی رپورٹ میں شائع شدہ حقائق کے مطابق اس حصے کی نقد قیمت نہیں بتائی گئی۔ اس کے بجائے ایک ڈھانچہ بتایا گیا ہے، اور یہ ڈھانچہ اس کمپنی سے منسلک ہے جس کا تعلق بیٹنکورٹ سے ہے، نہ کہ اس سرکاری تیل کمپنی سے جس کا نام خبر میں آیا ہو۔
این اے بی ای پی اسی کمپنی کا مختصر نام ہے۔ دن کے آخر میں ہونے والی خاموشی بھی این اے بی ای پی اور وائٹ ہاؤس دونوں سے منسوب کی گئی ہے، جس سے رپورٹنگ میں اس ادارے کو ایک نامزد فریق کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ کسی گمنام خول کمپنی کے طور پر۔ الیخاندرو بیٹنکورٹ وہ وینزویلا کے کاروباری شخص ہیں جن کا نام اس منصوبے کے ساتھ منسلک ہے۔ مارکیٹیں اور ناقدین جس انداز سے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، اس میں وہ غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والے متنازع ثالث بھی ہیں، جن کے ذریعے اوپیک سے منسلک خام تیل تک رسائی حاصل کی جائے گی۔ جرنل کی خبر میں دیے گئے حقائق کے مطابق ان تحقیقات یا انہیں کرنے والے غیر ملکی حکام کے نام نہیں بتائے گئے۔ البتہ اس میں اس شخص، کمپنی اور واشنگٹن کے مجوزہ حصے کا حجم ضرور بتایا گیا ہے۔
35 فیصد کا غیر فعال حصہ پھر بھی ایک حصہ ہے۔ غیر فعالی کنٹرول کے انداز کو بیان کرتی ہے، اقتصادی دعوے کی عدم موجودگی کو نہیں۔ اگر یہ خبر درست ہے تو امریکہ نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کا ایک بڑا اقلیتی مالک ہوگا، جبکہ بیان کے مطابق مالی شراکت دار رہے گا، آپریٹنگ شراکت دار نہیں۔ یہ دو حصوں پر مشتمل پیکیج کا کارپوریٹ حصہ ہے۔ دوسرا حصہ بیرل ہیں۔
پیداوار کے 20 فیصد کو لاگت پر خریدنے کے ترجیحی حقوق
حصص کے ساتھ ساتھ واشنگٹن نے پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر خریدنے کے ترجیحی حقوق کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ آف ٹیک کا حق ہے، زمین کے اندر موجود تیل پر ملکیت کا حق نہیں۔ ترجیحی کا مطلب ہے کہ امریکہ اس پیداوار کے حصے کے لیے عام خریداروں سے پہلے، یا کم از کم ان سے آگے، کھڑا ہوگا۔ لاگت پر کا مطلب ہے کہ خریداری کی قیمت بیرل پیدا کرنے کی لاگت سے منسلک ہوگی، نہ کہ مارکیٹ کے کسی اشاریے سے۔ یوں 35 فیصد ملکیتی حصص اور 20 فیصد لاگت پر خریداری کی کھڑکی مل کر امریکہ کو کمپنی کی قدر میں دعویٰ اور نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کی پیداوار کے پانچویں حصے تک ترجیحی رسائی دونوں دیں گے۔
پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر ایک تجارتی اصطلاح ہے جس کی جغرافیائی سیاسی اہمیت بھی ہے۔ لاگت پر فروخت ہونے والا تیل وہ تیل ہے جو موجودہ بین الاقوامی قیمت پر فروخت نہیں ہوتا۔ ترجیحی حقوق وہ حقوق ہیں جو دوسرے خریدار برابر شرائط پر نہیں رکھتے۔ شائع شدہ حقائق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی مخصوص سال میں 20 فیصد کتنے بیرل کے برابر ہوگا، کیونکہ پیداوار ایک بہاؤ ہے، ذخیرے کی تعداد نہیں۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ یہ حقوق بیٹنکورٹ کی نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کی پیداوار سے متعلق ہوں گے۔
یہ دونوں حصے ایک ساتھ اہم ہیں۔ آف ٹیک کے بغیر 35 فیصد غیر فعال حصص محض حصص کی کہانی ہوتی۔ حصص کے بغیر ترجیحی آف ٹیک رسد کے معاہدے کی کہانی ہوتی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن دونوں کا منصوبہ بنا رہا ہے: کمپنی کے بڑے اقلیتی حصے کی ملکیت اور کمپنی کی پیداوار کے 20 فیصد پر لاگت کی بنیاد پر خریداری کا حق۔ یہی امتزاج ہے جسے مارکیٹیں اور ناقدین اس وقت دیکھ رہے ہیں جب وہ پوچھتے ہیں کہ آیا امریکہ کھلی مارکیٹ سے صرف کارگو خریدنے کے بجائے اوپیک سے منسلک خام تیل پر اپنا اثر و رسوخ قومیانے کی کوشش کر رہا ہے۔
معمولی قیمت والے وارنٹس اور او ایس سی کا مبینہ ڈھانچہ
پینٹاگون کا آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل مبینہ طور پر اس معاہدے کو معمولی قیمت والے وارنٹس کے ذریعے ترتیب دے گا، جس سے بڑے نقد اخراجات کے بغیر حصص حاصل ہوں گے۔ رپورٹ میں مبینہ طور پر کا لفظ ایک وجہ سے موجود ہے۔ یہ ڈھانچہ اس دفتر سے منسوب کیا گیا ہے، مگر اس دفتر نے، جسے اسے نافذ کرنا ہوگا، اس کی تصدیق نہیں کی۔ معمولی قیمت والے وارنٹس ایسے مالی ذرائع ہیں جو معمولی مشق قیمت پر حصص میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس بیان کے مطابق یہی وہ ذریعہ ہیں جو بڑے نقد اخراجات کے بغیر مالی تعلق کو ملکیتی تعلق میں بدل دیں گے۔
بڑے نقد اخراجات کے بغیر مالیاتی دعویٰ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لین دین مفت ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ امریکہ نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کے 35 فیصد حصے کے لیے بڑا چیک لکھنے کے بجائے معمولی قیمت والے وارنٹس کے ذریعے حصص حاصل کرے گا۔ وارنٹس قرض اور حصص کے سرٹیفکیٹ کے درمیان کی چیز ہیں۔ وہ حقوق ہوتے ہیں۔ اگر انہیں استعمال کیا جائے تو وہ حصص میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر خبر درست ہے تو 35 فیصد غیر فعال حصص اسی طرح حاصل کیے جائیں گے۔
جس دفتر کا نام لیا گیا ہے وہ نہ کوئی کابینہ کا محکمہ ہے اور نہ تجارتی بینک۔ یہ پینٹاگون کا آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل ہے، جسے عموماً او ایس سی کہا جاتا ہے۔ اس کا مبینہ کردار معاہدے کو ترتیب دینا ہے۔ ڈھانچہ تیار کرنا وینزویلا میں کنویں چلانے کے برابر نہیں۔ یہ قانونی اور مالیاتی معماری ہے: وارنٹس، حصص، آف ٹیک، اور پینٹاگون کے دفتر سے ایک وینزویلا کے کاروباری شخص کی شمالی امریکی کمپنی تک پہنچنے کا راستہ۔ یہی وہ معماری ہے جس کے بارے میں شان پارنیل نے بعد میں کہا کہ دفتر کا قانون اسے حصص کی شکل میں اختیار نہیں دیتا۔
یہ کشمکش ہفتے کے روز کے تسلسل میں پہلے ہی موجود ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے معمولی قیمت والے وارنٹس کے ذریعے بڑے نقد اخراجات کے بغیر حصص دینے والے او ایس سی کے ایک مبینہ ڈھانچے کی خبر دی۔ پینٹاگون کے ترجمان نے جواب دیا کہ او ایس سی کا قانون قرضوں اور ضمانتوں کی اجازت دیتا ہے، حصص کی نہیں۔ اس تنازع میں وارنٹس، جو حصص فراہم کرتے ہیں، متنازع ذریعہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق قانون دراصل قرضوں اور ضمانتوں کی اجازت دیتا ہے۔
ٹرمپ کے اکثریتی کنٹرول کے دعوے کے ایک دن بعد خبر کا افشا
یہ خبر صدر ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی کہ امریکہ نے ایک نجی شراکت داری کے ذریعے 65 ارب سے زیادہ بیرل کے وینزویلا کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو وینزویلا کے دعویٰ کردہ ثابت شدہ تیل کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ وقت اس کہانی کا حصہ ہے۔ پہلے صدارتی دعویٰ سامنے آیا۔ پھر ہفتے کے روز بیٹنکورٹ کی کمپنی میں 35 فیصد حصص کے بارے میں جرنل کی خبر ایک افشا کے طور پر آئی۔
65 ارب سے زیادہ بیرل پر اکثریتی کنٹرول ذخائر کا دعویٰ ہے، پیداوار کا نہیں۔ زمین کے اندر موجود بیرل بندرگاہ پر موجود بیرل نہیں ہوتے۔ صدر نے حجم کے لیے 65 ارب سے زیادہ کو کم از کم حد کے طور پر پیش کیا۔ تقریباً پانچواں حصہ وہ تناسب ہے جو اس حجم کا وینزویلا کے دعویٰ کردہ ثابت شدہ تیل سے بنتا ہے، اگر وینزویلا کا اپنا ثابت شدہ عدد بنیاد ہو۔ رپورٹنگ میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ کل کے بجائے دعویٰ کردہ ثابت شدہ تیل کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ یہ صفت اہم ہے: پانچواں حصہ اس چیز کا ہے جس کا وینزویلا دعویٰ کرتا ہے، نہ کہ ایسے عدد کا جس کا ہفتے کے روز کی خبر نے آزادانہ آڈٹ کیا ہو۔
صدر کے بیان میں ادارہ ایک نجی شراکت داری ہے۔ جرنل کی خبر میں ادارہ نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز ہے، جس کی متعلقہ معنوں میں ملکیت الیخاندرو بیٹنکورٹ کے پاس ہے، اور واشنگٹن اس میں 35 فیصد غیر فعال حصص کے ساتھ پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر خریدنے کے ترجیحی حقوق حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دیے گئے حقائق میں خبر صدر کے بیانات کو کسی قانونی دستاویز کے طور پر دوبارہ پیش نہیں کرتی۔ یہ ان بیانات کے ایک دن بعد سامنے آتی ہے اور ایک کارپوریٹ راستہ فراہم کرتی ہے—این اے بی ای پی، معمولی قیمت والے وارنٹس، او ایس سی—جسے مارکیٹیں اور ناقدین اب اکثریتی کنٹرول کی زبان کے مقابل رکھ کر دیکھ رہے ہیں۔
اکثریتی کنٹرول اور 35 فیصد غیر فعال حصص ایک ہی بات نہیں ہیں۔ اکثریت نصف سے زیادہ ہوتی ہے۔ 35 فیصد نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کے نصف سے کم ہے۔ آف ٹیک کا حق پیداوار کے 20 فیصد کا ہے، جو نصف سے بھی کم ہے۔ صدارتی عدد 65 ارب سے زیادہ بیرل ذخائر کا ہے، جو دعویٰ کردہ ثابت شدہ کل کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ جرنل کا عدد ایک نجی کمپنی میں منصوبہ بند اقلیتی حصہ اور اس کمپنی کی پیداوار میں لاگت پر خریداری کا حصہ ہے۔ قارئین، مارکیٹیں اور ناقدین یہ سمجھنے کے لیے آزاد ہیں کہ نجی شراکت داری کے ساتھ اکثریتی زبان 35 فیصد کے غیر فعال حصے کی خبر کے ساتھ کیسے میل کھاتی ہے۔ حقائق اس خلا کو ختم نہیں کرتے؛ وہ دونوں بیانات کو ایک دن کے فاصلے پر رکھتے ہیں۔
پارنیل کی تردید: حصص نہیں، قرضے اور ضمانتیں
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ او ایس سی کا قانون قرضوں اور ضمانتوں کی اجازت دیتا ہے، حصص کی نہیں۔ یہ اسی ادارے کی جانب سے ریکارڈ پر موجود اعتراض ہے جس کے دفتر کا نام خبر میں لیا گیا ہے۔ یہ قانونی دلیل ہے، مارکیٹ کی دلیل نہیں۔ دیے گئے حقائق کے مطابق پارنیل اس بات سے اختلاف نہیں کرتے کہ وال اسٹریٹ جرنل نے ہفتے کے روز یہ خبر شائع کی۔ وہ اس بات سے اختلاف کرتے ہیں کہ آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل حصص لے سکتا ہے۔
قرضے اور ضمانتیں کریڈٹ کے ذرائع ہیں۔ قرض سرمایہ فراہم کرتا ہے اور واپسی کی توقع رکھتا ہے۔ ضمانت کسی دوسرے کے سرمائے کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی حصص کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ حصص ملکیت ہوتے ہیں۔ معمولی قیمت والے وارنٹس جو بڑے نقد اخراجات کے بغیر حصص فراہم کریں، اگر خبر درست ہے، تو کریڈٹ جیسے ڈھانچے سے ملکیت تک جانے کا راستہ ہیں۔ پارنیل کی تردید اسی راستے پر لکیر کھینچتی ہے۔ ان کے مطابق قانون قرضوں اور ضمانتوں تک محدود ہے۔
یہ تنازع قانونی ہونے کے ساتھ ادارہ جاتی بھی ہے۔ خبر میں پینٹاگون کے آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل کو ایک وینزویلا کے کاروباری شخص کی کمپنی میں 35 فیصد غیر فعال حصص کے معاہدے کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ ترجمان جواب دیتے ہیں کہ دفتر کا قانون خبر میں بیان کردہ حصص کی اجازت نہیں دیتا۔ جرنل کی رپورٹ میں مبینہ طور پر اور پینٹاگون کے جواب میں تردید ایک ہی دوپہر کے دو سرے ہیں۔ ان کے درمیان معمولی قیمت والے وارنٹس، 35 فیصد کا عدد، اور یہ جواب طلب سوال موجود ہے کہ اگر او ایس سی نہیں تو پھر واشنگٹن کے منصوبہ بند حصص کس کے پاس ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس اور این اے بی ای پی کی کئی گھنٹوں بعد خاموشی
وائٹ ہاؤس اور این اے بی ای پی نے کئی گھنٹوں بعد بھی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ جملہ محض رنگ آمیزی نہیں۔ جب خبر کو صدر کے اکثریتی کنٹرول کے دعوے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو یہ ان دو فریقوں کی حیثیت بیان کرتا ہے جو سب سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس وہ جگہ ہے جہاں صدر ٹرمپ کا ایک دن پہلے والا بیان عوام کے سامنے آیا تھا۔ این اے بی ای پی نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز ہے، وہ کمپنی جس میں واشنگٹن 35 فیصد غیر فعال حصص لینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
کئی گھنٹوں بعد سے مراد خبر کے چکر میں خاموشی کا وقت ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ ہفتے کے روز سامنے آنے والی خبر ہے۔ ہفتے کے روز کئی گھنٹے گزرنے کے بعد عموماً صدارتی محل اور کمپنی سے تصدیق، تردید یا وضاحت طلب کی جاتی۔ دونوں نے ایسی کوئی بات فراہم نہیں کی۔ شان پارنیل نے پینٹاگون کی جانب سے بات کی اور او ایس سی کے قانون پر گفتگو کی۔ وائٹ ہاؤس نے صدر کے پہلے دعوے میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ این اے بی ای پی نے معمولی قیمت والے وارنٹس، آف ٹیک یا بیٹنکورٹ کے کردار کی وضاحت نہیں کی۔
خاموشی نہ تصدیق ہے نہ تردید۔ یہ صرف ان دو ناموں کی جانب سے کئی گھنٹوں بعد تبصرے کی عدم موجودگی ہے جن سے توقع کی جاتی کہ وہ خبر کو قبول یا مسترد کرتے۔ چنانچہ مارکیٹیں اور ناقدین جرنل کی رپورٹ، ایک دن پہلے کے صدارتی ذخائر کے دعوے اور پینٹاگون کے قانونی اعتراض کا جائزہ لے رہے ہیں، مگر وائٹ ہاؤس کی وضاحت اور نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کی جانب سے کمپنی کے بیان کے بغیر۔
مارکیٹیں، ناقدین اور اوپیک سے منسلک خام تیل
مارکیٹیں اور ناقدین یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا امریکہ غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والے متنازع ثالث کے ذریعے اوپیک سے منسلک خام تیل پر اپنا اثر و رسوخ قومیانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کا تیل کی رسد کی جغرافیائی سیاست پر کیا مطلب ہے۔ یہ جملہ اس تفسیری فریم کی وضاحت کرتا ہے جس میں حقائق داخل ہو چکے ہیں، حجم یا قوانین کے بارے میں کوئی اضافی حقیقت نہیں۔ سوال یہی ہے جو خبر کے ذریعے اٹھایا جا رہا ہے۔
اوپیک سے منسلک خام تیل سے مراد ایسا وینزویلا کا خام تیل ہے جسے اس کارٹیل کے جغرافیائی پڑوس کے حوالے سے بیان کیا جا رہا ہے۔ یہاں وینزویلا کو کسی نئے پروڈیوسر کے طور پر متعارف نہیں کرایا جا رہا۔ اسے ایسے بیرلوں کے ذریعے بیان کیا جا رہا ہے جو اوپیک کی رسد کے قریب واقع ہیں، تاکہ ان بیرلوں پر امریکہ کا دعویٰ عالمی تیل کے توازن میں پہلے سے اہم بہاؤ پر دعویٰ ہو۔ اثر و رسوخ کو قومیانا ناقدین اور مارکیٹوں کا سوال ہے، کسی دستخط شدہ پالیسی کا عنوان نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا 35 فیصد غیر فعال حصص، پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر خریدنے کے ترجیحی حقوق اور بڑے نقد اخراجات کے بغیر حصص دینے والے معمولی قیمت والے وارنٹس، نجی ادارے کے ذریعے ان بیرلوں پر امریکہ کو ریاستی نوعیت کا اثر و رسوخ فراہم کرتے ہیں۔
صدر کے بیانات میں موجود نجی شراکت داری اور جرنل کی خبر میں موجود نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز وہ دو کارپوریٹ اصطلاحات ہیں جن پر یہ سوال قائم ہے۔ اگر امریکہ کسی معاہدے یا اس خبر میں مذکور رعایت کے بجائے کسی کمپنی کے ذریعے اثر و رسوخ حاصل کر رہا ہے، تو کمپنی اور اس کا مالک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جاری جائزے میں یہی ذریعہ غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والا متنازع ثالث ہے۔
غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والا متنازع ثالث
الیخاندرو بیٹنکورٹ وہ وینزویلا کے کاروباری شخص ہیں جن کا نام خبر میں آیا ہے۔ مارکیٹیں اور ناقدین انہیں متنازع ثالث سمجھ رہے ہیں، جن کے ذریعے امریکہ اوپیک سے منسلک خام تیل تک رسائی حاصل کرے گا۔ اسی جائزے کے مطابق وہ غیر ملکی تحقیقات کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ ہفتے کے روز کی رپورٹ میں دیے گئے حقائق کے مطابق ان تحقیقات کے دائرہ اختیار، مقدمات کے نام یا الزامات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ البتہ اس میں غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والے متنازع ثالث کو منصوبہ بند 35 فیصد امریکی حصے کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
ثالث کوئی وزارت نہیں ہوتا۔ نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز کو یہاں وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اسے بیٹنکورٹ کی فرم کہا گیا ہے، جس میں واشنگٹن ایک غیر فعال اقلیتی حصے اور لاگت کی بنیاد پر آف ٹیک کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ 65 ارب سے زیادہ بیرل پر اکثریتی کنٹرول کی زبان کو ایک ایسی نجی کمپنی کے ذریعے منتقل کرنا، جس کا سربراہ غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کر رہا ہو، وہ تنازع ہے جسے مارکیٹیں اور ناقدین زیرِ بحث لا رہے ہیں۔ خبر یہ طے نہیں کرتی کہ ان تحقیقات کا معاہدے سے کیا تعلق ہے۔ وہ صرف یہ نام اور ڈھانچہ فراہم کرتی ہے۔
پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر خریدنے کے ترجیحی حقوق اگر نافذ ہوئے تو اس ثالث کے ذریعے بیرلوں کی ترسیل ہوگی، ایسی قیمت پر جو بین الاقوامی مارکیٹ کے اشاریے کے بجائے لاگت سے منسلک ہو۔ 35 فیصد غیر فعال حصص اگر نافذ ہوئے تو امریکہ اس ثالث کی شمالی امریکی کمپنی کا بڑا اقلیتی مالک بن جائے گا۔ معمولی قیمت والے وارنٹس اگر او ایس سی کا مبینہ ڈھانچہ درست ہوا تو نقدی کے لحاظ سے اس ملکیت کو سستا بنا دیں گے۔ یہ تمام اقدامات الیخاندرو بیٹنکورٹ کے ذریعے ہوں گے۔ اسی لیے غیر ملکی تحقیقات، جن کی تفصیل نہیں مگر جن کا ذکر موجود ہے، اس کہانی کا حصہ ہیں جو مارکیٹیں اور ناقدین اس خبر کے بارے میں خود کو سنا رہے ہیں۔
تیل کی رسد کی جغرافیائی سیاست کے لیے مفہوم
ہفتے کے روز کے فریم میں آخری سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کا تیل کی رسد کی جغرافیائی سیاست پر کیا اثر ہوگا۔ رسد کی جغرافیائی سیاست اس نقشے کا نام ہے کہ کون بیرل نکال سکتا ہے، کون انہیں خرید سکتا ہے، اور کون انہیں کسی دوسرے سے روک سکتا ہے۔ وینزویلا کا دعویٰ کردہ ثابت شدہ تیل اتنا بڑا ہے کہ 65 ارب سے زیادہ بیرل—اس دعویٰ کردہ کل کا تقریباً پانچواں حصہ—اگر صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق اکثریتی کنٹرول واقعی موجود ہو، تو ایک بڑے ذخیرے کے مادی حصے کو نجی شراکت داری کے ذریعے امریکہ کی سمت منتقل کرے گا۔
جرنل کی خبر اس دعوے کو ایک کمپنی، ایک فیصد اور ایک معاہداتی اصطلاح میں تبدیل کرتی ہے: نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز، 35 فیصد، اور پیداوار کا 20 فیصد لاگت پر۔ یہ مالیاتی ڈھانچے کو معمولی قیمت والے وارنٹس اور بڑے نقد اخراجات کے بغیر حصص حاصل کرنے والے آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل کے ایک مبینہ ڈھانچے میں بدلتی ہے۔ یہ سیاسی خطرے کو غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والے متنازع ثالث میں بدلتی ہے۔ اور قانونی خطرے کو شان پارنیل کی اس یاد دہانی میں بدلتی ہے کہ او ایس سی کا قانون قرضوں اور ضمانتوں کی اجازت دیتا ہے، حصص کی نہیں۔
تیل کی رسد کی جغرافیائی سیاست کا فیصلہ ہفتے کے روز کی خبر یا کئی گھنٹوں کی خاموشی سے نہیں ہوگا۔ فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آیا واشنگٹن واقعی 35 فیصد غیر فعال حصص لیتا ہے، آیا ترجیحی لاگت پر آف ٹیک تحریری شکل اختیار کرتا ہے، آیا معمولی قیمت والے وارنٹس ذریعہ بنتے ہیں، اور آیا خبر میں مذکور پینٹاگون کا دفتر پارنیل کے بیان کردہ قانون کے تحت یہ سب کر سکتا ہے۔ جب تک وائٹ ہاؤس اور این اے بی ای پی تبصرہ نہیں کرتے، عوامی ریکارڈ میں وہی کچھ موجود ہے جو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا، جو صدر نے ایک دن پہلے وینزویلا کے 65 ارب سے زیادہ بیرل ذخائر پر اکثریتی کنٹرول کے بارے میں کہا، اور جو پینٹاگون کے ترجمان نے قانون کے تحت ممکن قرار دیا۔
یہی وہ کہانی ہے جس کا مارکیٹیں اور ناقدین جائزہ لینے پر مجبور ہیں: الیخاندرو بیٹنکورٹ کے نارتھ امریکن بلیو انرجی پارٹنرز میں امریکہ کا منصوبہ بند 35 فیصد حصہ، پیداوار کے 20 فیصد کے لیے لاگت پر حقوق، آفس آف اسٹریٹجک کیپیٹل کی جانب سے وارنٹس کا ایک مبینہ ڈھانچہ، وینزویلا کے دعویٰ کردہ ثابت شدہ تیل کے تقریباً پانچویں حصے پر صدارتی دعویٰ، شان پارنیل کا قانونی اعتراض، اور غیر ملکی تحقیقات کا سامنا کرنے والے ثالث کے ذریعے اوپیک سے منسلک خام تیل پر اثر و رسوخ قومیانے کا سوال۔